کالاش

نثری نظم۔۔۔کالاش
منظر اور منظر نامے کے درمیان کھڑی
مفتی صاحب کا تیاگ سوچ رہی ہوں
بلندی، لطافت، سائیکالوجی
ادب اور فطرت کا
انسان سے ٹریٹمنٹ
آنکھ کے کارنیا سے
دل میں سمو رہا ہے
میں، سلمی، شیما
اپنے آپ میں خاموش
باتیں کرنے کا ہُنر سیکھ رہی ہیں
بارہ کہو کی سیرینٹی میں
وقت کا پڑاؤ ہے
ہوا جالی کی کھڑکی سے
تخت پوش پر لیٹی کتابوں کے صفحوں میں
اپنی قسمت کا حال پڑھ رہی ہے
رات سائیڈ لیمپ کے سرہانے
پروانے کو داستانِ لیلی سناتے سناتے
سورج سے جا ملی ہے
زندگی لاونج میں صوفے پر
گاؤ تکیے کی ٹیک سے آدھ لیٹی
ایرانی اکنامکس پر گفتگو کر رہی ہے
سامان ایسے بکھرا ہے
جیسے کوئی رہتا تو ہے
مگر ذیادہ دن نہ رہے گا
دیر سے چترال کے راستے پر
چٹانیں ایسے پیار سے رکھی ہے
جو اوپر ہے وہ نیچے نہیں گرے گا
جو نیچے ہے وہ زمین پر نہیں اترے گا
لیول ایک سطح پر ہونا نہیں
اپنی صحیح جگہ پر ہونا ہے
بلندیوں کے ماتھے پر لکھا ہے
اپنی اوقات سے ذیادہ، اوپر نہ دیکھیں
وگرنہ گردن ٹوٹ سکتی ہے
تھوڑا آگے دریا کے ساتھ ساتھ
امن کی وادیاں ہیں
جن میں خوشکُن باشندے
اناج، محبت، قناعت بوتے ہیں
نئے موسموں کی آمد پر
مسّرت بھرے گیت گا کر
خلوص کے بندھن باندھتے ہیں
اور یوں ہی ہنستے ہنساتے
اپنا اپنا حصہ کاٹ لیتے ہیں
میں کوسڑ کی کھڑکی سے مُنہ لگائے
کب سے سوچ رہی ہوں
زندگی کیسے رائیگاں کر دی
فرح

جشن آزادی

مدر ڈے، فادر ڈے اور ایسے ہی کئی سارے ڈیز منا نے والوں کے خلاف دلیلوں کے انبار لگا دیے جاتے ہیں کہ رشتوں کی محبت اور اہمیت کے لیئے ایک ہی دن کیوں مُختص کیا جائے، اس کے لئے سال کے باقی تین سو چونسٹھ دن کیوں نہیں؟ اور یہ تو خالصتاً مغربی روایت ہے جسے ہم اپنے معاشرے میں اہمیت اور فروغ دے رہے ہیں۔
مگر آزادی مناتے ہوئے اس بات کا بالکل خیال نہیں رہتا کہ مُلک سے محبت بھی کیا صرف ایک دن ہی ہوتی ہے سال کے تین سو چونسٹھ دن کیا یہ نیند کی گولیاں کھا کے آرام فرما رہی ہوتی ہے؟ اور ماشااللہّ سے ایک دن بھی ایسے والہانہ انداز میں محبت کا اظہار ہوتا ہے کہ سڑکوں پہ لوگ گھنٹوں کے حساب سے آزادی کو ناچتا، کودتا دیکھ کر کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگلے روز ل و م ک کی گاڑی پیروں تلے روندے جھنڈے اُٹھا کر لے جاتی ہے اور گلیوں میں بکھرے جھنڈے بارش وارش میں دُھل کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ جشنِ آزادی کی مادی شکل ٹی وی پروگرامز سے گھر کے دالانوں تک گونجتی سُنائی دیتی ہے مگر اس کی روح کہیں نہیں ملتی اور پھر پندرہ اگست کو اسکا وصال شریف ۔۔۔
دراصل ہم نے آزادی منانا ہی سیکھا ہے آزادی جینا نہیں۔ جو آزاد ہوتے ہیں اُنہیں ہر قید تکلیف دیتی ہے بھلے وہ اپنیے آپ کی غلامی ہی کیوں نہ ہو۔ محض جھنڈے لہرانے سے ملک کی محبت کا ثبوت نہیں دیا جا سکتا، جھنڈے کے رنگ جینے پڑتے ہیں۔ ممٹیوں اور گاڑیوں پر جھنڈے لگانے سے اسکا حق ادا نہیں ہوتا اس کے لئے سال کے تین سو پینسٹھ دن جھنڈا دل میں سجا کے آزاد، باشعور اور ایماندار شہری کے طور پر اپنی قومی زمہ داری پوری کرنا لازم ہوتا ہے۔

خود تراش

نثری نظم/ خود تراش
وہ خواب جو میں نے تعمیر کیا تھا
دیکھو اسے مت گراؤ
میں نے تن کاٹ کے اس کی بنیادیں رکھیں تھیں
اسے اپنے لہو سے سینچا تھا
رت جگوں میں سوچ کر
اُجالوں میں کمایا تھا
معصوم خواہشوں کے سہارے دے کر
نیک جذبوں سے ڈھانپا تھا
اور کتنے ہی آسان لمحوں کو ٹھکرا کر
بہت سی مفت میں ملی منزلوں کو گنوا کر
اپنے وجود کی شناخت کا
کٹھن اور طویل راستہ چنا تھا
میں نے ہمت کی پائی پائی جوڑ کر
زندگی کا حوصلہ خریدا تھا
تمہیں کیا پتہ کیسے کیسے جتن کر کے
میں نے عورت ہونے کا خراج چکایا ہے
پھر جا کے اک خواب بنایا ہے
تمہارے سماج کی آنکھ سے نہیں
اپنے دل کی بینائی سے۔۔۔
فرح
نثری غزل۔۔۔
آخری جُملے سے پہلے لفظ تک
سفر ہی بدل گیا راستہ ملنے تک
اک روز کردار اپنا تعارف خود کروانے لگے
میری کہانی کی موت ہو گئی مکمل ہونے تک
جو کہیں بلآخر نہیں ملا تو
میں خود آپ ہی بن گیا وہ
کمرہ، آرام کُرسی، لیمپ، ایش ٹرے
دھوئیں میں زندگی سانس لے رہی ہے
جسے خواب میں سنوارا تھا کل
وہی منظر کینوس پہ اتارا ہے آج
یہ مرحلہ بھی تیرے شوق میں دیکھا ہم نے
کہ تجھے دیکھنے کے واسطے ذرہ ذرہ دیکھا ہم نے
پہلے تو باہر کی سب آوازیں گونگی کی میں نے
پھر تیری آواز سننے، خامشی میں اُترنا پڑا مجھے
فرح

نثری غزل۔۔۔ مُجھے وہ کرب بھی عزیز ہے

نثری غزل۔۔۔
مُجھے وہ کرب بھی عزیز ہے
جرّاتِ سوال نے جو بخشا ہے
حوصلے سے مُسکرا کر سہوں گی
آپکی بےلگام، جزباتی تقریر کو
بھائی دلیل سے بات کیوں نہیں کرتے
گولی سے انسان مرتا ہے نظریہ نہیں
آؤ کچھ دیر جی بھر کے رو لیں
دل کہیں بہۂ ناں جائے اتنے پانی میں
وہ کہانی ادھوری چھوڑ جاؤں گی
جس کہانی میں زندگی بھی کہانی ہو
اک نعرۂ مستانہ، اک خوابِ دیوانہ
منبر و محراب سے سُنوایا جائے گا
یہ زماں و مکاں مجھے ہر لمحہ دہرائیں گے
میری داستاں کائنات کے سینے میں محفوظ ہے
فرح

نثری نظم۔۔۔۔۔۔۔کہانی اب زندگی کا عنوان نہیں


نثری نظم

کہانی اب زندگی کا عنوان نہیں
او بھائی کردار ہی نہیں رہے تو کہانی کیسی
ہے spice اب تو بس 
چکا چوند بتی ہے
وہ بھی سولر پہ
جو کبھی جلنا ناں بھولے
جسم کا ایسا ننگا سودا ہے کہ وقت بھی بندے کومنہ نہیں لگاتا
 خواہشوں کا ایسا intense تماشہ ہے جس کی بین حرامزادوں کی ناف سے بجتی ہے
دوڑ لگی ہے پائی دوڑ
دوڑو، دوڑو بس دوڑتے ہی جاؤ
جیتنے کے لئے نہیں
میں رہنےکے واسطے Limelight
نہیں تو تمھیں کیا لگتا ہے
ایسے راستوں کی کوئی منزل بھی ہوتی ہے
پاگل یہ تو بس خام خیالی کےچمپئین ہیں
مادے کی منزل بھی مادہ ہی ہے
ایک طرف سے لوٹ رہے ہیں
دوسرے ہاتھ سے لٹا رہے ہیں
materialism دوست یہی تو ہے
ایسا بازار سجا ہے جہاں اللہ سے سیکس تک سب بکتا ہے
بس سارا مایا کا کیا دھرا ہے
ورنہ انسان تو معصوم ہے
اکیسیویں صدی میں خود کو دھوکہ دے کر خوش ہوتا ہے
دیکھو میں نے دنیا کو دھوکا دے دیا
اپنے لئے گڑھے کھودتا ہے
پھر سمجھتا ہے کوئی اور گر پڑے گا
مال سے محبت ہے، مال دینے والے سے نہیں
کتنا سستا سودا کیے جا رہا ہے
انسان ہونے کےوصف کو بیچ کے
کتا بنے جا رہا ہے
بس دُم ہلاتا، بھونکتا رہتا ہے
سڑکوں پہ
بازاروں میں
چوراہوں پر
آسمانوں کی طرف
تھک ہار کے اپنے آپ پر
بیچارا تھکا ہارا
دو ٹا نگوں والا
گلے میں ہڈی پھسائے کتا

فرح

نثری غزل۔۔۔ نیا جہاں


میری دوست میں آج کہنے آئی ہوں
نیلے پانی کے پنچھی لوٹ آیئں گے
عمر رسیدہ آنکھوں کے خواب ٹوٹنے سے زرا پہلے
تعبیر کی شاہراہ بن جا ئیں گے
دھڑکتے لمحوں کی ذندہ جاوید کہانی
تاریخ میں نۓ دن کی طرح پھر اُگ آۓ گی
سفید آسمان کا بے نور روشن چاند
آنسوؤں کی تہہ میں روانی بھر دے گا
پرندے پھر سے منڈیروں پر گیت سُنائیں گے
سیاہ راتوں کے ماتم ستاروں کا بدن اوڑھ لیں گے
ننگے بھوکے بچے تن ڈھانپے
پیٹ بھر کر کھانا کھائیں گے
بازاروں کی زینت مجبور جسم نہیں بنیں گے
خالی ہتھیلیاں غریب کا مقدر نہیں ہوں گی
ظالم خود اپنے ظلم کا شکار ہوگا
کافر کہہ کر مارنے والا موت کا حقدار ہوگا
گردنیں صرف آقا کے آگے جھکیں گی
جینا سب کا ہموار، مرنا خوشگوار ہوگا
اذیتیں نیک کی شان اور ذلیتں بد کی پہچان ہونگی
راج ہوگا انسانیت کا، فرقوں کی دکان سرِبازار پاش پاش ہو گی
ناانصافی کا پھندہ آسمان کے مرکز پر لٹکایا جاۓ گا
میری دوست سنو!
پھر سے ایک ایسا جہان بسایا جائے گا
جہاں خوشیوں کا چمن سجایا جائے گا
فرح

LikeShow more reactions
Comment