نثری غزل۔۔۔ نیا جہاں

12:21:00 Farah Deeba Akram 0 Comments


میری دوست میں آج کہنے آئی ہوں
نیلے پانی کے پنچھی لوٹ آیئں گے
عمر رسیدہ آنکھوں کے خواب ٹوٹنے سے زرا پہلے
تعبیر کی شاہراہ بن جا ئیں گے
دھڑکتے لمحوں کی ذندہ جاوید کہانی
تاریخ میں نۓ دن کی طرح پھر اُگ آۓ گی
سفید آسمان کا بے نور روشن چاند
آنسوؤں کی تہہ میں روانی بھر دے گا
پرندے پھر سے منڈیروں پر گیت سُنائیں گے
سیاہ راتوں کے ماتم ستاروں کا بدن اوڑھ لیں گے
ننگے بھوکے بچے تن ڈھانپے
پیٹ بھر کر کھانا کھائیں گے
بازاروں کی زینت مجبور جسم نہیں بنیں گے
خالی ہتھیلیاں غریب کا مقدر نہیں ہوں گی
ظالم خود اپنے ظلم کا شکار ہوگا
کافر کہہ کر مارنے والا موت کا حقدار ہوگا
گردنیں صرف آقا کے آگے جھکیں گی
جینا سب کا ہموار، مرنا خوشگوار ہوگا
اذیتیں نیک کی شان اور ذلیتں بد کی پہچان ہونگی
راج ہوگا انسانیت کا، فرقوں کی دکان سرِبازار پاش پاش ہو گی
ناانصافی کا پھندہ آسمان کے مرکز پر لٹکایا جاۓ گا
میری دوست سنو!
پھر سے ایک ایسا جہان بسایا جائے گا
جہاں خوشیوں کا چمن سجایا جائے گا
فرح

LikeShow more reactions
Comment

You Might Also Like

0 comments: