نثری غزل۔۔۔ مُجھے وہ کرب بھی عزیز ہے

10:10:00 Farah Deeba Akram 0 Comments

نثری غزل۔۔۔
مُجھے وہ کرب بھی عزیز ہے
جرّاتِ سوال نے جو بخشا ہے
حوصلے سے مُسکرا کر سہوں گی
آپکی بےلگام، جزباتی تقریر کو
بھائی دلیل سے بات کیوں نہیں کرتے
گولی سے انسان مرتا ہے نظریہ نہیں
آؤ کچھ دیر جی بھر کے رو لیں
دل کہیں بہۂ ناں جائے اتنے پانی میں
وہ کہانی ادھوری چھوڑ جاؤں گی
جس کہانی میں زندگی بھی کہانی ہو
اک نعرۂ مستانہ، اک خوابِ دیوانہ
منبر و محراب سے سُنوایا جائے گا
یہ زماں و مکاں مجھے ہر لمحہ دہرائیں گے
میری داستاں کائنات کے سینے میں محفوظ ہے
فرح

You Might Also Like

0 comments: