نثری غزل۔۔۔ مُجھے وہ کرب بھی عزیز ہے
نثری غزل۔۔۔
مُجھے وہ کرب بھی عزیز ہے
جرّاتِ سوال نے جو بخشا ہے
جرّاتِ سوال نے جو بخشا ہے
حوصلے سے مُسکرا کر سہوں گی
آپکی بےلگام، جزباتی تقریر کو
آپکی بےلگام، جزباتی تقریر کو
بھائی دلیل سے بات کیوں نہیں کرتے
گولی سے انسان مرتا ہے نظریہ نہیں
گولی سے انسان مرتا ہے نظریہ نہیں
آؤ کچھ دیر جی بھر کے رو لیں
دل کہیں بہۂ ناں جائے اتنے پانی میں
دل کہیں بہۂ ناں جائے اتنے پانی میں
وہ کہانی ادھوری چھوڑ جاؤں گی
جس کہانی میں زندگی بھی کہانی ہو
جس کہانی میں زندگی بھی کہانی ہو
اک نعرۂ مستانہ، اک خوابِ دیوانہ
منبر و محراب سے سُنوایا جائے گا
منبر و محراب سے سُنوایا جائے گا
یہ زماں و مکاں مجھے ہر لمحہ دہرائیں گے
میری داستاں کائنات کے سینے میں محفوظ ہے
میری داستاں کائنات کے سینے میں محفوظ ہے
فرح

0 comments: