میری کہانی روتی ہے

12:04:00 Farah Deeba Akram 0 Comments

میری کہانی روتی ہے
اور سوال پوچھتی ہے
مجھے کیوں جنا مابعد جدیدیت میں
میرے خیال پہ ہی گلا کیوں نہ گھونٹ دیا
ایسی رُسوائی سے' بےنامی اچھی
وقت کا گھڑیال سیکنڈز بیچ رہا ھے
قاری میں اور ڈکنسڑرکشن
ادب ، ادب کھیل رھے ہیں
لفظ فری مارکیٹ میں سیل پر ھے
معنی، خوشبو، خیر، اخلاص
کوٹ لکھپت کے پھاٹک پر
لہو میں لُتھڑے ملے ہیں
نا معلوم افراد نے گلا گھونٹ دیا
سورج نکل رہا ھے
دن ڈھل رہا ھے
خون بہھ رہا ھے
انسان مریخ پہ زندگی ڈھونڈ رہا ھے
زمین اپنا survival ڈھونڈ رہی ھے
ھم کوئی ناخُدا تخلیق کر کے
خُدا کھوج رہے ھیں
فرح

You Might Also Like

0 comments: