میں نظم کس کے لئے لکھوں
میں نظم کس کے لئے لکھوں
ڈرائینگ روم کے پردے سے کتاب کا کور میچ کرنے والی بیگم صاحبہ کے لئیے
ڈائجسٹ کی کہانیوں میں شہزادے تراشنے والی کچی عُمر کی پکی لڑکیوں کے واسطے
سوشل میڈیا پہ سینکڑوں لائکس اور تعریفی کمنٹس کے لئے
گروپ بندی کے شکار جعلی مشاعروں میں روایتی واہ واہ کی صدا کی خاطر
کمرشل ادب کے مائی باپ بزنس مین پبلشر کے لئے
بھائی پاپولر ادب میں نھیں لکھ سکتی
ایسی شھرت پہ تھوکوں بھی ناں
مجھے اپنے لئے لکھنا ہے
اپنے احساس کو لکھنا ہے
محنت کش مزدور کی بات سُناوں گی
بارش میں ٹپکتی چھت کے نیچے
برتن ھاتھ میں تھامے بچے کو لکھوں گی
وزن سے دبی کمر کا خم لکھوں گی
بھوکے پیٹ، ننگے پاؤں، پیاسے لب
ھاتھ میں سوال اور دل میں ملال لئے
سڑکیں ناپنے والے بچے کا احوال لکھوں گی
سرکار کی پارک میں بیٹھے میاں بیوی، دو بچے
ایک پیکٹ بسکٹ کو بانٹ کے کھانے کا بیان لکھوں گی
ماں کے علاج کے پیسے پورے نہ ہونے پر
بےبس اولاد کا پُرشکوہ غم لکھوں گی
ایک بڑے گھر کے بننے میں
کتنے چھوٹے گھر مسمار ہوتے ہیں
اُن کا حساب لکھوں گی
اور نجانے کتنے احساس ھیں
جنھیں لفظ ملنے باقی ھیں
ڈرائینگ روم کے پردے سے کتاب کا کور میچ کرنے والی بیگم صاحبہ کے لئیے
ڈائجسٹ کی کہانیوں میں شہزادے تراشنے والی کچی عُمر کی پکی لڑکیوں کے واسطے
سوشل میڈیا پہ سینکڑوں لائکس اور تعریفی کمنٹس کے لئے
گروپ بندی کے شکار جعلی مشاعروں میں روایتی واہ واہ کی صدا کی خاطر
کمرشل ادب کے مائی باپ بزنس مین پبلشر کے لئے
بھائی پاپولر ادب میں نھیں لکھ سکتی
ایسی شھرت پہ تھوکوں بھی ناں
مجھے اپنے لئے لکھنا ہے
اپنے احساس کو لکھنا ہے
محنت کش مزدور کی بات سُناوں گی
بارش میں ٹپکتی چھت کے نیچے
برتن ھاتھ میں تھامے بچے کو لکھوں گی
وزن سے دبی کمر کا خم لکھوں گی
بھوکے پیٹ، ننگے پاؤں، پیاسے لب
ھاتھ میں سوال اور دل میں ملال لئے
سڑکیں ناپنے والے بچے کا احوال لکھوں گی
سرکار کی پارک میں بیٹھے میاں بیوی، دو بچے
ایک پیکٹ بسکٹ کو بانٹ کے کھانے کا بیان لکھوں گی
ماں کے علاج کے پیسے پورے نہ ہونے پر
بےبس اولاد کا پُرشکوہ غم لکھوں گی
ایک بڑے گھر کے بننے میں
کتنے چھوٹے گھر مسمار ہوتے ہیں
اُن کا حساب لکھوں گی
اور نجانے کتنے احساس ھیں
جنھیں لفظ ملنے باقی ھیں
فرح

0 comments: