کالاش

12:42:00 Farah Deeba Akram 0 Comments

نثری نظم۔۔۔کالاش
منظر اور منظر نامے کے درمیان کھڑی
مفتی صاحب کا تیاگ سوچ رہی ہوں
بلندی، لطافت، سائیکالوجی
ادب اور فطرت کا
انسان سے ٹریٹمنٹ
آنکھ کے کارنیا سے
دل میں سمو رہا ہے
میں، سلمی، شیما
اپنے آپ میں خاموش
باتیں کرنے کا ہُنر سیکھ رہی ہیں
بارہ کہو کی سیرینٹی میں
وقت کا پڑاؤ ہے
ہوا جالی کی کھڑکی سے
تخت پوش پر لیٹی کتابوں کے صفحوں میں
اپنی قسمت کا حال پڑھ رہی ہے
رات سائیڈ لیمپ کے سرہانے
پروانے کو داستانِ لیلی سناتے سناتے
سورج سے جا ملی ہے
زندگی لاونج میں صوفے پر
گاؤ تکیے کی ٹیک سے آدھ لیٹی
ایرانی اکنامکس پر گفتگو کر رہی ہے
سامان ایسے بکھرا ہے
جیسے کوئی رہتا تو ہے
مگر ذیادہ دن نہ رہے گا
دیر سے چترال کے راستے پر
چٹانیں ایسے پیار سے رکھی ہے
جو اوپر ہے وہ نیچے نہیں گرے گا
جو نیچے ہے وہ زمین پر نہیں اترے گا
لیول ایک سطح پر ہونا نہیں
اپنی صحیح جگہ پر ہونا ہے
بلندیوں کے ماتھے پر لکھا ہے
اپنی اوقات سے ذیادہ، اوپر نہ دیکھیں
وگرنہ گردن ٹوٹ سکتی ہے
تھوڑا آگے دریا کے ساتھ ساتھ
امن کی وادیاں ہیں
جن میں خوشکُن باشندے
اناج، محبت، قناعت بوتے ہیں
نئے موسموں کی آمد پر
مسّرت بھرے گیت گا کر
خلوص کے بندھن باندھتے ہیں
اور یوں ہی ہنستے ہنساتے
اپنا اپنا حصہ کاٹ لیتے ہیں
میں کوسڑ کی کھڑکی سے مُنہ لگائے
کب سے سوچ رہی ہوں
زندگی کیسے رائیگاں کر دی
فرح

You Might Also Like

0 comments: