End Note!!!

End Note۔۔۔
مجھے معلوم نہیں تھا
تعلق کا end note نہیں لکھتے
اس کی پرورش کرتے ہیں
بلاناغہ آبیاری کرنی ہوتی ہے
تراش خراش کرتے رہتے ہیں
دھوپ میں سایہ بن کر
کبھی سردی میں کرنوں کی صورت
اس کی دیکھ ریکھ کر کے
اک روز تناور رشتہ بنانا تھا
پھر اس کے پھل کو، پتھروں سے بچانا تھا

پوری بات سن کر
آدھی بھول جانی تھی
خود سے ہی جو کہتی رہی
اسے پاس بٹھا کر بتانی تھیں
مجھے اس کی چاہ ہے
ایک ہی بار بتانے والی بات
کئی کئی بار نہیں دہرانی تھی
اوروں نے جو بتلائی، وہی کہانی
ایک بار اُس سے بھی پوچھ لینی تھی

میں اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے
موجود سے غیر موجود میں
لامکاں سے مکاں میں
خود تھکنے لگی ہوں
اپنے سائے میں بیٹھتی ہوں تو
سایہ جسم سے بڑھنے لگتا ہے
دل راستہ، عشق مسافر، خواب راہنُما
منزل ساتھ ساتھ بتلاتی ہے
وہ مل جائے تو حاصل کا خالی پن
اور نہ ملے تو لاحاصل کی وحشت۔۔۔

فرح

Urbanization


نثری نظم۔۔۔اربنائزیش
شہر کی بے لگام رفتار میں
ہری، پیلی، لال بتی دیکھ دیکھ کر
سال لمحوں میں بیت گئے
رونقوں کے خالی پیالے میں
بے معنی قہقہے لگا لگا کر
کتنے ہی بیچارے لوگ
کامیابی سے گلے ملتے ہوئے
خود سے محروم ہو گئے
آسمان، کنکریٹ کے جِن اور ماتڑ لوگ
دیکھ کے دل، ایک نہیں کئی بار دہلتا ہے
بُلندی بڑی توجہ طلب ہوتی ہے
اور توجہ ایمانداری سے پھوٹتی ہے
اِدھر پل بھر کی کوتاہی
اُدھر کہانی کا tragic end
جانے کتنے گھروں کے چراغ بُجھیں گے
حاکموں کے بس امداد کے اعلان
افسوس کے بیان
اور انکوائری کے احکام آئیں گے
آنکھ کے پاس قدرت نہیں رہی
تا حدِ نظر عمارتیں ہی عمارتیں
جیسے ہوا میں لٹکے اُلو
اپنا آپ نوچ رہے ہوں
ماڈرنٹی ناشتے کی میز پر
ہمارا ورثہ کھا رہی ہے
شہر کی تہذیب آئی سی یو میں
الوداعی ہچکیاں بھر رہی ہے
لارنس کے پرندے، ایم ایم عالم کا فٹ پاتھ، کینال کے درخت
شہر کی تاریخی کتاب میں ملیں گے
دوست، احباب، رشتے، ناطے۔۔۔سارے
کریڈٹ کارڈ سے آن لائن دستیاب ہوں گے
خوشیاں ٹی سی ایس سے ہوم ڈلیور ہوں گی
بھائی سانس لینے کی قیمت ہو گی
زندگی بھی capitalist کی پروڈکٹ ہو گی
البتہ موت فری آف کاسٹ ہو گی
انسان بننے کی پھر سخت سزا ہو گی۔۔۔
فرح

کالاش

نثری نظم۔۔۔کالاش
منظر اور منظر نامے کے درمیان کھڑی
مفتی صاحب کا تیاگ سوچ رہی ہوں
بلندی، لطافت، سائیکالوجی
ادب اور فطرت کا
انسان سے ٹریٹمنٹ
آنکھ کے کارنیا سے
دل میں سمو رہا ہے
میں، سلمی، شیما
اپنے آپ میں خاموش
باتیں کرنے کا ہُنر سیکھ رہی ہیں
بارہ کہو کی سیرینٹی میں
وقت کا پڑاؤ ہے
ہوا جالی کی کھڑکی سے
تخت پوش پر لیٹی کتابوں کے صفحوں میں
اپنی قسمت کا حال پڑھ رہی ہے
رات سائیڈ لیمپ کے سرہانے
پروانے کو داستانِ لیلی سناتے سناتے
سورج سے جا ملی ہے
زندگی لاونج میں صوفے پر
گاؤ تکیے کی ٹیک سے آدھ لیٹی
ایرانی اکنامکس پر گفتگو کر رہی ہے
سامان ایسے بکھرا ہے
جیسے کوئی رہتا تو ہے
مگر ذیادہ دن نہ رہے گا
دیر سے چترال کے راستے پر
چٹانیں ایسے پیار سے رکھی ہے
جو اوپر ہے وہ نیچے نہیں گرے گا
جو نیچے ہے وہ زمین پر نہیں اترے گا
لیول ایک سطح پر ہونا نہیں
اپنی صحیح جگہ پر ہونا ہے
بلندیوں کے ماتھے پر لکھا ہے
اپنی اوقات سے ذیادہ، اوپر نہ دیکھیں
وگرنہ گردن ٹوٹ سکتی ہے
تھوڑا آگے دریا کے ساتھ ساتھ
امن کی وادیاں ہیں
جن میں خوشکُن باشندے
اناج، محبت، قناعت بوتے ہیں
نئے موسموں کی آمد پر
مسّرت بھرے گیت گا کر
خلوص کے بندھن باندھتے ہیں
اور یوں ہی ہنستے ہنساتے
اپنا اپنا حصہ کاٹ لیتے ہیں
میں کوسڑ کی کھڑکی سے مُنہ لگائے
کب سے سوچ رہی ہوں
زندگی کیسے رائیگاں کر دی
فرح

جشن آزادی

مدر ڈے، فادر ڈے اور ایسے ہی کئی سارے ڈیز منا نے والوں کے خلاف دلیلوں کے انبار لگا دیے جاتے ہیں کہ رشتوں کی محبت اور اہمیت کے لیئے ایک ہی دن کیوں مُختص کیا جائے، اس کے لئے سال کے باقی تین سو چونسٹھ دن کیوں نہیں؟ اور یہ تو خالصتاً مغربی روایت ہے جسے ہم اپنے معاشرے میں اہمیت اور فروغ دے رہے ہیں۔
مگر آزادی مناتے ہوئے اس بات کا بالکل خیال نہیں رہتا کہ مُلک سے محبت بھی کیا صرف ایک دن ہی ہوتی ہے سال کے تین سو چونسٹھ دن کیا یہ نیند کی گولیاں کھا کے آرام فرما رہی ہوتی ہے؟ اور ماشااللہّ سے ایک دن بھی ایسے والہانہ انداز میں محبت کا اظہار ہوتا ہے کہ سڑکوں پہ لوگ گھنٹوں کے حساب سے آزادی کو ناچتا، کودتا دیکھ کر کوسنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگلے روز ل و م ک کی گاڑی پیروں تلے روندے جھنڈے اُٹھا کر لے جاتی ہے اور گلیوں میں بکھرے جھنڈے بارش وارش میں دُھل کر صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں۔ جشنِ آزادی کی مادی شکل ٹی وی پروگرامز سے گھر کے دالانوں تک گونجتی سُنائی دیتی ہے مگر اس کی روح کہیں نہیں ملتی اور پھر پندرہ اگست کو اسکا وصال شریف ۔۔۔
دراصل ہم نے آزادی منانا ہی سیکھا ہے آزادی جینا نہیں۔ جو آزاد ہوتے ہیں اُنہیں ہر قید تکلیف دیتی ہے بھلے وہ اپنیے آپ کی غلامی ہی کیوں نہ ہو۔ محض جھنڈے لہرانے سے ملک کی محبت کا ثبوت نہیں دیا جا سکتا، جھنڈے کے رنگ جینے پڑتے ہیں۔ ممٹیوں اور گاڑیوں پر جھنڈے لگانے سے اسکا حق ادا نہیں ہوتا اس کے لئے سال کے تین سو پینسٹھ دن جھنڈا دل میں سجا کے آزاد، باشعور اور ایماندار شہری کے طور پر اپنی قومی زمہ داری پوری کرنا لازم ہوتا ہے۔

خود تراش

نثری نظم/ خود تراش
وہ خواب جو میں نے تعمیر کیا تھا
دیکھو اسے مت گراؤ
میں نے تن کاٹ کے اس کی بنیادیں رکھیں تھیں
اسے اپنے لہو سے سینچا تھا
رت جگوں میں سوچ کر
اُجالوں میں کمایا تھا
معصوم خواہشوں کے سہارے دے کر
نیک جذبوں سے ڈھانپا تھا
اور کتنے ہی آسان لمحوں کو ٹھکرا کر
بہت سی مفت میں ملی منزلوں کو گنوا کر
اپنے وجود کی شناخت کا
کٹھن اور طویل راستہ چنا تھا
میں نے ہمت کی پائی پائی جوڑ کر
زندگی کا حوصلہ خریدا تھا
تمہیں کیا پتہ کیسے کیسے جتن کر کے
میں نے عورت ہونے کا خراج چکایا ہے
پھر جا کے اک خواب بنایا ہے
تمہارے سماج کی آنکھ سے نہیں
اپنے دل کی بینائی سے۔۔۔
فرح
نثری غزل۔۔۔
آخری جُملے سے پہلے لفظ تک
سفر ہی بدل گیا راستہ ملنے تک
اک روز کردار اپنا تعارف خود کروانے لگے
میری کہانی کی موت ہو گئی مکمل ہونے تک
جو کہیں بلآخر نہیں ملا تو
میں خود آپ ہی بن گیا وہ
کمرہ، آرام کُرسی، لیمپ، ایش ٹرے
دھوئیں میں زندگی سانس لے رہی ہے
جسے خواب میں سنوارا تھا کل
وہی منظر کینوس پہ اتارا ہے آج
یہ مرحلہ بھی تیرے شوق میں دیکھا ہم نے
کہ تجھے دیکھنے کے واسطے ذرہ ذرہ دیکھا ہم نے
پہلے تو باہر کی سب آوازیں گونگی کی میں نے
پھر تیری آواز سننے، خامشی میں اُترنا پڑا مجھے
فرح

نثری غزل۔۔۔ مُجھے وہ کرب بھی عزیز ہے

نثری غزل۔۔۔
مُجھے وہ کرب بھی عزیز ہے
جرّاتِ سوال نے جو بخشا ہے
حوصلے سے مُسکرا کر سہوں گی
آپکی بےلگام، جزباتی تقریر کو
بھائی دلیل سے بات کیوں نہیں کرتے
گولی سے انسان مرتا ہے نظریہ نہیں
آؤ کچھ دیر جی بھر کے رو لیں
دل کہیں بہۂ ناں جائے اتنے پانی میں
وہ کہانی ادھوری چھوڑ جاؤں گی
جس کہانی میں زندگی بھی کہانی ہو
اک نعرۂ مستانہ، اک خوابِ دیوانہ
منبر و محراب سے سُنوایا جائے گا
یہ زماں و مکاں مجھے ہر لمحہ دہرائیں گے
میری داستاں کائنات کے سینے میں محفوظ ہے
فرح